Friday, August 7, 2026 | World News & Current Affairs

نوید اسلم کی بہادری: اٹلی میں پارک میں بچوں پر حملہ کرنے والے شخص پر قابو پانے والا پاکستانی

admin June 26, 2026 1 min read World News 11 views
نوید اسلم کی بہادری: اٹلی میں پارک میں بچوں پر حملہ کرنے والے شخص پر قابو پانے والا پاکستانی
Gallery

اٹلی: پارک میں کھیلتے بچوں پر حملہ کرنے والے شخص پر قابو پانے والے گجرات کے نوید اسلم جن کی جرات کا سرکاری طور پر اعتراف ہوا

کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

نوید اسلم

،تصویر کا ذریعہNaveed Aslam

،تصویر کا کیپشننوید اسلم کا تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے اور وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ گذشتہ کئی برسوں سے اٹلی میں مقیم ہیں

مضمون کی تفصیل

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت 25 جون 2026

  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

اٹلی کے شہر بریشا میں واقع البیرینی پارک میں موجود افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، خوفزدہ تھے کیونکہ گذشتہ کئی منٹوں سے ایک شخص پارک میں موجود دوسرے شخص کو اس انداز میں دبوچ کر بیٹھا تھا کہ وہ ہِل جُل نہیں پا رہا تھا۔

زمین پر موجود وہ شخص جس پر بزور طاقت قابو پایا جا چکا تھا، اُس کی شناخت بعد ازاں 29 سالہ نائجیرین شہری کے طور پر ہوئی جو اٹلی میں قانونی طور پر مقیم تھا جبکہ نائجیرین شہری پر قابو پانے والا شخص پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والے نوید اسلم تھے۔

اٹلی کے خبررساں ادارے ’نیشنل ایسوسی ایٹڈ پریس ایجنسی‘ کے مطابق یہ نائجیرین شہری پارک میں کھیل کود میں مصروف دو بچوں پر حملہ کر چکا تھا اور اس حملے کے دوران اُس نے بچوں کی گردن دبوچنے کی کوشش کی۔ ایک بچہ اس شخص کی گرفت سے بچنے میں کامیاب ہوا تو اس شخص نے قریب ہی سائیکل چلاتے دوسرے بچے کو گردن سے سختی سے دبوچ لیا۔

اٹلی کے ذرائع ابلاغ میں نوید اسلم کی بہادری کی کافی کوریج ہوئی اور متعدد چینلز نے ان کے انٹرویو نشر کیے ہیں۔

اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے نوید اسلم بتاتے ہیں کہ اٹلی میں معمول سے زیادہ گرمی پڑ رہی تھی اور دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی شام کے وقت اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ پارک میں موجود تھے۔

’میں اور میری اہلیہ ایک بینچ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے جبکہ ہمارے بچے سائیکل چلا رہے تھے اور جھولے جھول رہے تھے۔ اتنے میں پارک کی ایک جانب سے شور کی آواز آئی تو دیکھا کہ ایک شخص نے سائیکل پر موجود ایک بچے کو گردن سے پکڑ کر اٹھا رکھا تھا۔‘

نوید کے مطابق اس حملے کے دوران بچے نے سائیکل کا ہینڈل نہیں چھوڑا مگر وہ شخص لگاتار بچے کی گردن کو مروڑتا رہا۔ اتنے میں بچے کی والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو تھوڑی دھینگا مشتی کے بعد اُس شخص نے بچے کو چھوڑ دیا۔

’اس کے بعد وہ شخص چلنے لگا اور خود کلامی کرتا جا رہا تھا۔ پھر وہ اچانک زمین پر بیٹھا اور وہاں زور زور سے مکے مارنا شروع کر دیے جس سے اُس کے اپنے ہاتھ بھی زخمی ہوئے۔‘

 

سب سے زیادہ پڑھی جاننے ان کے لیے تالیاں بجائیں، جو سب سے بڑی بات تھی۔

Share this article: