پاکستان میں متنازع ٹیلیکام بِل: تیز انٹرنیٹ کا معاملہ پانچ کروڑ روپے جرمانے اور شہریوں کے حق ملکیت پر بحث تک کیسے پہنچا؟
کم ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے صرف تحریر پڑھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مضمون کی تفصیل
-
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
-
وقت اشاعت 25 جون 2026
-
مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان میں کئی دنوں سے ٹیلیکام کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی دینے کا بِل زیرِ بحث ہے جس پر کڑی تنقید کے بعد وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے متنازع شقوں پر مزید وضاحت کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ’رائٹ آف وے‘ کے نام پر شہریوں کے حقِ ملکیت کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ نامی اس متنازع بِل میں کہا گیا تھا کہ اگر نجی املاک کے مالکان مواصلاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے جیسے ٹاور یا آپٹیکل فائبر کیبلز کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالیں گے تو انھیں پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیلیکام کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اس بِل کا دفاع کیا ہے اور اسے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے سے جوڑا ہے۔ تاہم حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بِل کو واپس لے۔
اس متنازع بل پر شزا فاطمہ اور ٹیلیکام کی وزارت کے حکام کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔
یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ گیا تھا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان سمیت دیگر سینیٹر نے اس پر اعتراض اُٹھایا۔
سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اس پر کمیٹی قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پانچ کروڑ جرمانے‘: متنازع بِل میں کیا ہے؟
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026) رواں ماہ 11 جون کو قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن ایکٹ 1996 میں ترامیم کی تجاویز دی گئیں۔
جس معاملے پر شور اُٹھا وہ اس ایکٹ کے سیکشن دو، 27 اے اور 27 بی میں ترامیم سے متعلق ہے۔
Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان ترامیم کے تحت کسی بھی ٹیلیکام نظام کی تعیناتی، آپریشن یا دیکھ بھال، مواصلاتی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے، ٹاور، متعلقہ آلات، آپٹیکل فائبر کیبلز کی تنصیب کے لیے ٹیلیکام کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی (رائٹ آف وے) کے اختیارات دیے گئے ہیں۔
متنازع بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مالک، کرایہ دار یا نجی ادارہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
مجوزہ بل کے تحت لائسنس ہولڈر مالک، کرایہ دار یا نجی ادارے کو کوریئر کے ذریعے اجازت کے لیے لکھے گا، 15 روز کے اندر کوئی جواب موصول نہ ہونے پر یاددہانی کا خط بھیجا جائے گا اور 30 روز بعد بھی جواب نہ آنے پر درخواست کو منظور سمجھا جائے گا۔
مالک، کرایہ دار یا عوامی یا نجی ادارہ کوئی فیس، کرایہ یا کسی نوعیت کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور رکاوٹ ڈالنے والے مالک، کرایہ دار یا نجی ادارے کو پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مالک کی رضامندی ہونی چاہیے، کمیٹی کی تجویز
وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے بل میں شامل مجوزہ ترامیم اور ’رائٹ آف وے‘ سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے متعدد اجلاس کیے اور تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطہ سہولت کو بہتر بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاہم بعض شقوں کی زبان میں مزید وضاحت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
پاکستان میں ٹیلیکام کمپنیوں کا یہ گلہ رہا ہے کہ ملک میں فائیو جی متعارف کروائے جانے کے بعد مواصلاتی رابطوں کے چیلنجز ہیں، جن میں فائبر آپٹیکس بچھانے اور ٹاورز کی تنصیب کا عمل بہت پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ سے ڈیجیٹل ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے۔
ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں موبائل فون کے سگنل کمزور ہیں لہذا اس راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہے۔
Skip content and continue reading
End of content
Skip content and continue reading
End of content
مواد پر جائیںبی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی جائیداد کے معاملے میں مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ بنیادی شرط ہوگی۔ کسی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثے کے استعمال یا رسائی سے متعلق کوئی قدم مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدے کے بغیر نہیں اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کا اطلاق عوامی اداروں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیرِ ملکیت یا زیرِ انتظام زمین، عمارت، جائیداد اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اسی نوعیت کے اداروں پر واضح طور پر کیا جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی تعریفیں قانون میں صاف اور واضح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر اور زیرِ زمین ٹیلیکام ڈھانچے، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے معاملات میں واضح فرق رکھا جائے گا اور ہر معاملے کے لیے الگ طریقہ کار مقرر کیا جائے گا۔
اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور عوامی ادارے، رہائشی منصوبے، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے گا۔ متعلقہ حکومت اس معاملے کا فیصلہ 45 دن کے اندر قانون کے مطابق کرے گی۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ حکومت کی رہنمائی کے لیے واضح اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی تجویز کی ضرورت، مناسب ہونے، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’رائٹ آف وے کا مقصد حقِ ملکیت کو متاثر کرنا نہیں‘
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثرہ شخص کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا، جو سیکشن 7 اے آف دی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے تحت قائم ہے۔ اس معاملے میں ٹربیونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
کمیٹی نے سیکشن 27 بی ون کے تحت تجویز کردہ جرمانے کی رقم کا بھی جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقصد، ڈھانچے اور شقوں سے ہم آہنگ بنانے کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔
وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلیکام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی چاہتی ہے، مگر یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
وزارتِ قانون و انصاف نے کہا ہے کہ شہریوں کی نجی جائیداد، مالک کی رضامندی، حقِ اعتراض، قانونی تحفظ اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔

